حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمن شرعی شیعیان دارالمصطفیٰ کے زیر اہتمام قدیمی امام باڑہ حسن آباد سرینگر میں منعقد نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام مولانا سید محمد حسین صفوی نے خاندانی نظام کے تحفظ، تقویٰ کی اہمیت اور مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک مستحکم خاندان اور صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے دینی اقدار، اخلاقی تربیت، باہمی احترام اور اسلامی تعلیمات پر عملی عمل درآمد ناگزیر ہے۔
مولانا سید محمد حسین صفوی نے امیر المومنین حضر علی ؑ کے ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے تقویٰ کو انسانی زندگی کی اصلاح، روحانی نجات اور دنیاوی و اخروی کامیابی کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خوف خدا انسان کو گناہوں سے بچانے، اخلاقی انحرافات پر قابو پانے اور زندگی کو صحیح سمت میں گامزن کرنے کا ذریعہ ہے۔
خاندانی نظام کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ خدا سے دوری، تقویٰ کا فقدان، شریک حیات کے انتخاب میں عدم بصیرت، غیر حقیقت پسندانہ توقعات، بے ادبی، تذلیل، بے وفائی اور باہمی عدم اعتماد ازدواجی زندگی کو کمزور کرنے والے اہم عوامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسروں کی غیر ضروری مداخلت، معاشی مشکلات، مادیت پرستی، جھوٹ، غصہ، سخت لہجہ، باہمی گفتگو سے گریز، جذباتی غفلت اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی بھی خاندانی رشتوں میں دوریاں پیدا کرتی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خاندانی رازوں کو افشا کرنا، شریک حیات کا دوسروں سے موازنہ کرنا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا بھی ازدواجی زندگی کے استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کے مطابق، خاندان کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی باہمی اعتماد، برداشت، احترام، حسن سلوک اور ذمہ داری کے احساس کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں اور اسلامی تعلیمات کو محض نظریاتی بحث کے بجائے عملی زندگی میں نافذ کریں۔
مسلمانوں کی موجودہ پستی کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا سید محمد حسین صفوی نے کہا کہ دین و شریعت سے دوری، قرآن و سنت کی تعلیمات سے عملی انحراف، علمی و سائنسی میدانوں میں پسماندگی، فرقہ واریت، باہمی انتشار اور اخلاقی زوال امت مسلمہ کی کمزوری کے بنیادی عوامل ہیں۔ انہوں نے امانت، دیانت، سچائی اور انصاف جیسی اسلامی اقدار کے احیا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی اجتماعی ترقی کے لیے علمی تحقیق، جدید علوم و ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور فکری و اخلاقی بالیدگی ناگزیر ہے۔
مولانا نے مزید کہا کہ دوسری اقوام کی اندھی تقلید، اسلامی تشخص سے غفلت اور معاشی، سیاسی و عسکری شعبوں میں دوسروں پر غیر ضروری انحصار مسلمانوں کی خود اعتمادی اور اجتماعی قوت کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امت مسلمہ کو اپنی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے علم، تحقیق، خود کفالت، اتحاد اور اخلاقی اصلاح کے راستے پر گامزن ہونا چاہیے۔
مولانا سید محمد حسین صفوی نے اپنے خطبے میں اس امر پر زور دیا کہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی اصلاح کا راستہ تقویٰ، علم، اتحاد، اخلاقی پاکیزگی اور اسلامی تعلیمات پر مخلصانہ عمل سے ہو کر گزرتا ہے۔










آپ کا تبصرہ